عنوان: قیامت تک الوداع سجل راجہ اسلام آباد بموں کا شور ہو یا بارود کی مہک اس کے لیے کچھ اجنبی نہ تھا۔ ماں کے پیٹ سے یہ سب سہنے کے بعد عرصہ تین سال سے وہ دھماکوں کی آوازوں میں سونے کا عادی تھا۔ لیکن خلاف معمول آج سوتے ہوۓ ڈر گیا ایک خوفناک دھماکہ ہوا پتہ نہیں انسانی چیخوں کی آواز بلند تھی یا انسانيت سے عاری ان ہاتھوں کے بم کی جس نے اس کا سب چھین لیا۔ ان انسانی چیخوں میں وہ ایک چیختی آواز کو پہچان چکا تھا بکھرے بالوں کے ساتھ جب وہ جاۓ وقوع پر پہنچا تو وہ جانی پہچانی اس کے بابا کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گی تھی جو روزانہ پانچ نمازیں پڑھ کر چھٹی نمازِ جنازہ ادا کرتے تھے ۔ اب ان کا جنازہ کوٸی نہیں پڑھا پاۓ گا۔ اسے لگا بابا بارودی دھویں کے ساتھ پروازِجنت کر رہے ہیں۔ وہ فقط الوداع ہی کہہ سکتا تھا۔
0 Comments