نوجوانوں کے لیے سیاست کو سمجھنے کے لیےبہترین کتب|To the Pakistani Youth out there

https://chandonlinecademy.blogspot.com/2022/04/wereare-you-ptiik-supporter-this-is-for.html

 To the Pakistani Youth out there 🔊

(میں ان نوجوانوں سے خاص کر مخاطب ہوں جو کسی بھی طرح سے دین میں آگے بڑھنے کی سعی کر رہے ہیں۔ لیکن سیاست کو دین سے الگ کوئی بیکار چیز سمجھتے ہیں۔ ان پر بھاری ذمہ داری ہے!)


عرصہ ہوا ہمارے ہاں ہر معاملے (بشمول دین) میں اجتماعی سے زیادہ انفرادی ماحول کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی زندگی میں اپنی مرضی کا اتنا عمل دخل ہے کہ وہ دین و دنیا کے لیے کسی گروہ، organized group یا ideology کا حصہ بننا مشکل سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فی زمانہ نوجوان بھی یہی چاہتے ہیں کہ اجتماعی دھارے سے الگ ہو کر الگ رہ کر اپنی دنیا/ دین سنواریں۔ انفرادیت کی اپروچ اجتماعیت پر حاوی ہے۔ 

⚠️جو اسلام کی روح کے عین خلاف ہے۔ 

(قرآن جا بجا لوگوں کو اجتماعی طور پر مخاطب کرتا ہے۔ چند ایک کے علاوہ سارے احکامات ، ساری ہدایات اجتماعی طور پر جاری کی گئی ہیں)


آج انفرادی (individualistic) اپروچ کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی گہماگہمی اور گرما گرمی میں جب اپوزیشن اور حکومت واضح طور پر باطل کے مہرے بنے ہوئے ہیں اور جماعت اسلامی ان دونوں کی دین دشمنی کی وجہ سے بالکل مخالف جانب موجود ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کی دھینگامشتی میں جماعت اسلامی کے لوگ اپنے نظریے کا پرچار کر رہے ہیں۔ 

تو بہت سے نوجوانوں میں اپنی individualistic approach کی وجہ سے اس سب سے بیزاری پھیلی ہوئی ہے اور ان نوجوانوں کے درمیان وہ لوگ مقبول ہو رہے ہیں جو "معتدل" رہنے کی بات کر رہے ہیں۔ 


ہم بھی معتدل رہنے پر متفق ہیں۔ 

لیکن_____ اگر وہ ڈھکے چھپے الفاظ میں سیاسی اعتبار سے 'نیوٹرل' رہنے (کسی جماعت کو سپورٹ نہ کرنے) کو معتدل کہہ کر ترویج دے رہے ہیں، تو ہم ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ 


معتدل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی کوئی رائے نہ ہو۔ 

بلکہ متضاد نظریات میں سے ایک کو 'حق' کی کسوٹی پر پرکھ کر چننا مومن کی ذمہ داری ہے۔ 

اب آپ کہیں گے ہمیں کسی سکالر/ رائٹر/ مینٹور نے یہ نہیں بتایا۔ میں بتا تو رہی ہوں کہ وہ سب 'انفرادیت' کو فروغ دے رہے ہیں۔

یہ کام آپ خود کریں۔ 

آپ ماشاء اللہ سمارٹ نوجوان ہیں، ٹیکنالوجی بھی آپ کے پاس، کتاب بھی آپ کے پاس ____ اپنے سیاسی نظریات کا تعین پاکستان سے باہر موجود لوگوں/سکالرز/مینٹورز/اپنے انفلوئنسرز سے کرانے کی بجائے خود کیجیے۔ انبیاء کی سیرتیں پڑھیے۔ ہر جگہ حق و باطل میں سے ایک کے انتخاب کی مثالیں نمایاں ہیں۔


بہرحال!

Being معتدل isn't equal to being 'neutral'.

کسی نظرہے کا ساتھ نہ دینا ایک انتہا ہے ، جبکہ کسی نظریے کے تعصب میں اندھے ہو جانا ایک دوسری انتہا ہے۔ 


اعتدال یہ ہے کہ 

آپ نظریات کو سمجھیے ۔ مگر سیاست اور اسلام کے تناظر میں!!

اور اپنے ملک کی تمام اہم (ن لیگ، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی وغیرہ) پارٹیوں کے 

🕳️منشور و تاریخ

🕳️لیڈرشپ کی صالحیت

🕳️صلاحیت

🕳️کردار

🕳️دیانت 

🕳️علمِ کتاب و سنت

 🕳️حب الوطنی 

🕳️عملی کارکردگی 

وغیرہ کا جائزہ لیجیے۔ 

فرق کو سمجھیے کہ آپ کی موجودہ پاپولر پارٹیوں میں سے کتنی سود خوری، فحاشی، غیراسلامی نظام کے خلاف ہیں؟ یا ان سے ہٹ کر کسی نے ان مسائل پر کام کیا ہے تو وہ کون ہے؟

پھر اپنے علم کی روشنی میں سمجھ کے مطابق ایک نظریہ اور ایک جماعت شعوری طور پر اپنالیجیے۔ 

اس کے بعد اس نظریئے کے لیے تن من دھن لگا دیجیے۔ 


یہی ’بیچ کا راستہ‘ ہے۔ نظریے کے ساتھ کمٹمنٹ کا راستہ ہے۔ دلی و جذباتی وابستگی کا راستہ ہے۔ اور اسے مقصدِ زندگی بنا لینے کا راستہ ہے۔

یہی لازمی کرنے کا کام ہے۔ کیونکہ کل آپ کا ہے اور اس کل میں آپ کو اس نظام کی وجہ سے درپیش چیلنجز میں صرف اس صورت میں بولنے کا حق حاصل ہو گا جب آپ نے اس نظام کی تبدیلی میں کوئی حصہ ڈالا ہو!


جاتے جاتے،

یاد رکھیے گا! 

کرۂ ارض پر جانوروں کو چھوڑ کر انسانی دنیا میں نیوٹرل کچھ نہیں ہوتا۔ 

اور____ حق کے پلڑے سے نکلا ہوا وزن باطل کے پلڑے میں جاتا ہے۔ 




نوجوانوں کے لیے سیاست کو سمجھنے کے لیے کتب برائے استفادہ 


1۔ شہادتِ حق (سید ابوالاعلیٰ مودودی)

2۔اسلام اور اجتماعیت (سید ابو الاعلی مودودی)

3۔ اسلامی ریاست (ابوالاعلیٰ مودودی) 

4۔ بناؤ اور بگاڑ (سید ابوالاعلی مودودی)

5۔ حکومت بھلائی اور برائی کا سرچشمہ (سید مودودی)

6۔ فریضۂ اقامت دین (صدرالدین اصلاحی)


بنتِ سحر

Post a Comment

0 Comments

Do you have any doubts? chat with us on WhatsApp
Hello, How can I help you? ...
Click me to start the chat...